Voice of Urdu News TV

is the Voice for Urdu speaking people in Pakistan, Europe, Canada and United States of America

"آخر جھگیوں میں رہنے والے بھی توانسان ہی ہیں" کالم نویس: روزینہ علی (اسلام اْباد) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 15 جولائی 2020 (نیدرلینڈز) www.voiceofurdunews.nl

فاصلے ایسے بھی ہونگے یہ کبھی سوچا نہ تھا کالم نویس: نعیم خالد (برسلز) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 08 جولائی 2020 (نیدرلینڈز) www.voiceofurdunews.nl

یورپ کے دِل سے کالم نویس: نعیم خالد (برسلز) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 26 جون 2020 (نیدرلینڈز) www.voiceofurdunews.nl

یورپ کے دِل سے کالم نویس: نعیم خالد (برسلز) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 17 جون 2020 (نیدرلینڈز

پاکستان تحریک ِ انصاف فرانس کی منتخب باڈی کا اجلاس - Report by Nasrah Khan (France)

میانوالی امن کا گہوارہ تحریر: چوہدری آصف آرائیں (میانوالی) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 13 جون 2020 (نیدرلینڈز

جرمنی میں مقیم پاکستانی جرمن زبان سیکھ کر مقامی سیاست میں فعال کردار ادا کریں: سفیر ِ پاکستان ڈاکٹر فیصل خان تحریر: منور علی شاہد (جرمنی) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 15 جون 2020 (نیدرلینڈز

جرمن ائیرلائن کو کرونا نے بدترین مالی بحران کا شکار کر دیا تحریر: منور علی شاہد (جرمنی) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 06 جون 2020 (نیدرلینڈز

کٹ ہی گئی تنہائی بھی (حصہ دوئم) تحریر: نعیم خالد (برسلز) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 12 جون 2020 (نیدرلینڈز

(قید ِ تنہائی اور ہم تحریر: نعیم خالد (برسلز) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 06 جون 2020 (نیدرلینڈز

جرمنی میں تعینات ہونے والے سفیر پاکستان ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے عید ملن پارٹی کا اہتمام: اوور سیز پاکستانیوں کا ملاجُلا ردعمل کالم نویس: منور علی شاہد (جرمنی) روزنامہ : وائس آف اُردو شمارہ 28 مئی 2020 (نیدرلینڈز)

08/05/2020جنگ عظیم دوم کے خاتمہ کے 75برس مکمل : تحریر : منور علی شاہد-جرمنی

فرانس اور جرمنی 2019 میں ویزا درخواستوں کے لئے پسندیدہ ملک رہے: سالانہ شینگن رپوٹ جاری کالم نگار: عمران اقبال ( نیدرلینڈز)

0.3 million People successful to take Asylum in Europe Column written by Munawar Ali Shahid (Germany)

Germany is the 2nd safest country in the world - جرمنی دنیا کا دوسرا محفوظ ملک بن گیا

کرونا کی تباہ کاریاں اور بیلجئم میں مقیم پاکستانیوں کی فراخ دلی: کالم: نعیم خالد (سینئر کالم نگار) بیلجئم ڈائری

کرونا وائرس ایسٹر کی خوشیوں کو بھی نگل گیا، لوگ گھروں میں عبادات پر مجبور خصوصی رپوٹ: منور علی شاہد (جرمنی) کرونا نے ایسٹر کی خوشیوں کو بھی نگل لیا ہے اور مسیحی گھروں میں ایسٹر منانے پر مجبور ہو گئے ۔ 2020کاسال انسانی المیوں کے حوالے سے بدترین سال کے طور پر تاریخ انسانی میں محفوظ ہو چکا ہے، گزشتہ تین صدیوں کی طرح چوتھی صدی میں ایک بار پھر عالمی وبا نے انسانوں کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اور اس وقت ایک لاکھ سے زائد انسان اس مہلک عالمی وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں ، لاکھوں کرونا مرض میں مبتلا ہیں ، صرف اٹلی میں 100سے زائد ڈاکٹرز ہلاک ہو چکے ہیں ان حالات میں جب ہر بڑے ملک میں انسانی المیے جنم لے رہے ہیں وہاں مذہبی پیشواؤں نے حکومتوں کے لئے کچھ مسائل بھی پیدا کئے اور اپنی ہٹ دھرمی دکھائی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے آج عملی طور پر انفرادی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، عالمی وباء کی وجہ سے تمام مذاہب عالم کے مقدس ترین مقامات بھی بند ہو چکے ہیں اور انسان گھروں میں عبادت کرنے پر مجبور ہو چکا ہے،انہی آیام میں جہاں مسلمانوں کے ماہ رمضان کی آمد آمد ہے وہیں ایسٹر کے دنوں کی آمد ہوچکی ہے اوردنیا کے دیگر ممالک کی طرح جرمنی میں بھی لوگ اور پاسٹر ایسٹر کے موقع پر چرچوں میں عبادت کی خواہش مند تھے۔ خصوصا کتھولک گروپ ایسٹر پر چرچوں میں عبادت کرنے پر مصر تھا ۔ کیتھولک سے تعلق رکھنے والے ایک جرمن شہری نے برلن میں ایک عدالت میں ایسٹر کے موقع پر پچاس افراد کے ساتھ اجتماعی عبادت کی اجازت مانگی تھی جس کو عدالت نے مسترد کردیا تھا، فاضل عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے حکومتی بندشوں سے مذہبی آزادی کی مخالفت نہیں ہوتی ۔ اسی طرح کی ایک اور درخواست ایک اور عدالت میں بھی دائر کی گئی تھی جس میں عبادات کی پابندیوں کو چیلینج کیا گیا تھا، تاہم برلن اور ہیسن کے بعد سیکسونی کی انتظامی عدالت نے وبا کی صورت میں پابندیوں کا جائز قرار دیتے ہوئے ایسی تمام درخواستوں کو مسترد کردیا ہے جس کا واضع مطلب ہے کہ کرونا کی موجودہ ہولناک صورتحال میں عبادت سے زیادہ انسانی جان زیادہ اہم ہے ۔ عدالتوں کے اس فیصلہ کے بعد مسیحیت کے دونوں گروپوں کتھولک اور پروسٹنٹ کے مذہبی پیشواءوں نے چرچوں میں عبادت کرنے کی دوبارہ اپیل کی ہے، تاہم بہت سے مسیحی راہنما شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین بھی کر رہے ہیں ۔ یا درہے کہ جرمنی میں کووڈ19 وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاور کر چکی ہے جب کہ دو ہزار کے لگ بھگ جرمن شہری کرونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں اور جرمنی کی 16ریاستوں میں لاک ڈاءون مختلف شکلوں میں موجود ہے، زندگی مکمل طور پر مفلوج دکھائی دیتی ہے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر مذہب زندہ انسانوں کے لئے ہوتا ہے اگر انسان ہی نہ رہے تو مذہب کن کے لئے ہو گا ؟ لہذا انسانی جان کی حفاظت کو بحرحال عبادت پر فوقیت حاصل ہے۔ نوٹ: (تحریر نہایت خلوص ِ دل سے لکھی گئی ہے، ادارہ" وائس آف اُردو " اپنے ریڈرز کے لئے ایسی خصوصی رپوٹس شائع کر کے اپنی جگہ بنا رہا ہے، ہم منور علی شاہد صاحب کے مشکور ہیں)

جرمنی میں "36081" افراد کرونا کو شکست دے چکے منور علی شاہد (اسپیشل رپوٹ) یورپ کے ہر ملک کی طرح جرمنی میں بھی کرونا وائرس حملہ آور ہوا، اور تاحال جرمنی میں کووڈ 19 کے متاثرین کی تعداد103717 ہو چکی ہے، جب کہ اس کے بالمقابل کرونا کو شکست دے کر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 36081 ہے۔ تاہم 1822افراد کرونا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ اس وقت جرمنی بھر کی 16 ریاستوں میں لاوک ڈاؤن مختلف شکلوں میں موجود ہے، جیسے کہ جرمنی بھر میں ٹرینیں تو چل رہی ہیں مگر مسافر غائب ہیں لیکن سروس جاری ہے، ایسا ہی سماں بسوں میں بھی نظر آتا ہے۔جرمنی بھر میں عبادت گاہوں میں مکمل ہو کا عالم ہے ، ایسٹر کے دنوں کی آمد پر مقامی چرچوں کی طرف سے خصوصی عبادت کی اجازت کے لیے ایک عدالت سے رجوع کیا گیا تھا لیکن عدالت نے درخواست مسترد کردی ہے۔ جرمنی کے اندر اس وقت ایک حکومت کی " کرائسز ٹیم" فعال کام کر رہی ہے جس نے جرمنی بھر میں کرونا وائرس کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، اس ٹیم کا اعلان ابتدائی دنوں میں وفاقی وزیر صحت نے کیا تھا۔ جرمنی کے اندر متعدی بیماریوں کے انسداد کا ادارہ رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ (RKI) بھی کرونا کے خلاف فعال کام کر رہا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جرمنی کے اندر"انفیکشن پروٹیکشن ایکٹ" موجود ہے جو ان حالات میں نئے اور فوری اقدامات کرنے میں راہنمائی کرتا ہے۔ عالمی وباء اب ایک دہشت اور خوف کی شکل اختیار کر چکی ہے اور اس نے چند ماہ میں ہی بڑے بڑے طاقتور ترین ممالک کی طاقت کو ننگا کرکے رکھ دیا ہے، ان کے اندرونی نظاموں کی قلعی کھول دی ہے۔موجودہ نازک اور ابتر ہوتے ہوئے حالات میں اہم بات یہ ہے کہ گھبراہٹ کو خود پر مسلط نہ ہونے دیا جائے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ *وائس آف اردو اسپیشل ایڈیشن*